حج و عمرہ؛ محرم کو اب خاتون کے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں
قاہرہ ( ۔ 10 اکتوبر 2022ء ) سعودی عرب کے وزیر برائے حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے اعلان کیا ہے
کہ اب محرم (خون کے رشتہ دار) کو حج یا عمرہ کے لیے کسی خاتون کے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں ہے اور دنیا کے کسی بھی
حصے سے اکیلی خواتین حج یا عمرہ کرنے کے لیے سعودی عرب آسکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات قاہرہ میں سعودی سفارت خانے میں ایک پریس
کانفرنس کے دوران کہی، جس کے ساتھ ہی اس مسئلے کو بھی کھلے لفظوں میں بیان کرتے ہوئے حل کیا کہ آیا محرم کا ایک خاتون حاجی کے ساتھ جانا
ضروری ہے یا نہیں؟۔پریس کانفرنس میں وزیر نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کی توسیع کے اخراجات 200 ارب ریال سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ کہ مسجد الحرام کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی توسیع جاری ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عمرہ کے ویزوں کی تعداد کے لیے کوئی کوٹہ یا حد نہیں ہے، کسی بھی قسم کے ویزے کے ساتھ مملکت آنے والا کوئی بھی مسلمان عمرہ کر سکتا ہے۔وزیر حج و عمرہ نے دو مقدس مساجد کی زیارت کے خواہشندوں کو وزارت کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات کو جدید ٹیکنالوجی کے تعارف، استعمال اور ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے حالیہ عرصے کے دوران مملکت کی طرف سے کی گئی کوششوں کا بھی حوالہ دیا جب کہ سعودی عرب کی جانب سے حج اور عمرہ کے اخراجات کو کم کرنے کی خواہش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ متعدد عوامل سے متعلق ہے۔


