نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جب داماد دو مہینے تک اپنے سسرال میں رہا
تو لڑکی کی ماں نے بیٹی سے کہا ۔۔پتر، داماد جی نے واپس نئیں جانڑاں واہ واہ ٹائم ہوگیا ۔۔بیٹی نے کہا ،تسی آپ ای پچھ لو
جاکے ۔۔ساس گئی اور داماد سے کہا۔۔ بیٹا توں واپس نئیں جانڑاں؟ دو مہینے ہوگئے تیری امی تے گھر والے اڈیکدے ہونڑیں؟ ۔۔داماد نےجواب
دیا ۔۔دہاڈی دھی ساڈے گھر چھ چھ مہینے رہ آندی اسی تے کدی گل نئیں کیتی ۔۔ساس نے کہا، پتر اوہدا تے اس گھر ویاہ ہویا اے ۔۔داماد بولا۔۔تے میں
کیہڑا بل تارن آیا واں میرا وی اس گھر ویاہ ای ہویا اے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اگر تم وہ حاصل نہ کر سکےجو تم چاہتے ہو تو تم تکلیف میں
رہو گے۔ اگر تم وہ حاصل کرلو جو تم نہیں چاہتے تو تم تکلیف میں رہو گے۔ حتیٰ کہ تم وہی حاصل کرلو جو تم چاہتے ہو تب بھی تم تکلیف میں رہو گے کیونکہ تم اسے ہمیشہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


