اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے
تو اس کے ساتھ ساتھ دوسری ضروریات زندگی کی اشیاء پر بھی خاصا اثر پڑتا ہے اب اکتوبر کے مہینے
کا ہاف اختتام ہونے جا رہا ہے تو پاکستان میں 15 اکتوبر سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہو گا۔
پٹرول سستا جبکہ ہائی اسپیڈل ڈیزل اور مٹی کا تیل مہنگا ہونے کا امکان ظاہر کردیا گیا ہے۔ حالیہ ٹیکس کی شرح کے تحت پیٹرول
کی قیمت تقریباً 10.75روپے فی لیٹر کم ہو کر 214 روپے تک پہنچ جائے گی۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے
کی قدر میں چودہ فیصد اضافے کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 5 سے 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔ البتہ اگر موجودہ ٹیکس کی شرح برقرار رہی تو 15 اکتوبر کے بعد آئندہ پندرہ دن کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 11 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 11.50 روپے فی لیٹر اضافہ کے بعد 247 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت 4 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 196 روپے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمت 7 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 194 روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا
رہا ہے۔اس سے قبل وزیرمملکت پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا تھا کہ کہ حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں، پیٹرولیم مصنوعات پر17 فیصد جی ایس ٹی وصول نہیں کیا جا رہا، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے پیٹرول پر50 روپے لیوی لگانے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے سینیٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر17 فیصد جی ایس ٹی وصول نہیں کیا جا رہا۔


