Home / انٹرٹینمنٹ / شاہ رخ خان کے بیٹے کو جن الزامات اور دفعات کے تحت گر فتا ر کیا گیاہے ، اس کے مطابق انہیں کتنی سز ا ہو سکتی ہے ؟ حیران کن خبر

شاہ رخ خان کے بیٹے کو جن الزامات اور دفعات کے تحت گر فتا ر کیا گیاہے ، اس کے مطابق انہیں کتنی سز ا ہو سکتی ہے ؟ حیران کن خبر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو 2 اکتوبر کی

رات گرفتار کیا گیا تھا۔ نارکو ٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے 2 اکتوبر کی رات ممبئی کے ساحل پر

موجود ایک بحری جہاز پر منعقد ہونے والی ریو پارٹی پر اچانک چھاپہ مار کر غیر قانونی منشیا ت بر آمد کی تھی۔

اس بحری جہاز پر شاہ رخ خان کا بیٹا آریان خان بھی موجود تھا۔ آریان کو تحقیقات کے دوران اس کے خلاف جمع ہونے والے شواہد کی بنیاد پر پوچھ گچھ کے بعد گر فتا ر کیا گیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق گر فتا ری کے پہلے 15 گھنٹے تک این

سی بی نے آریان خان سے پوچھ گچھ کی جس کے دوران آریان نے اپنے جرم کو تسلیم کیا۔ آریان خان کو این سی بی نے نار کو ٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹنس (این ڈی پی ایس) ایکٹ 1985 کے

سیکشن 8سی، 20 بی، 27 اور 35 کے تحت گر فتا ر کیا ہے۔ این ڈی پی ایس کا سیکشن 8 سی خریدنے اور فروخت کرنے کا کیس ہے اور اگر آریان پر یہ الز ام ثابت ہوگیا تو انہیں 6 ماہ سے لے کر 10 سال تک کی سز ا ہوسکتی ہے۔سیکشن 20 بی گانجا، چر س اورڈر گز رکھنے کا کیس ہے اور اس کیس میں 20 سال تک کی سز ا ہوتی ہے لہذا اگر آریان خان پر یہ الز ام ثابت ہو گیا تو انہیں 20 سال تک کی سز ا ہوسکتی ہے۔ سیکشن 27 یہ

دفعہ ڈر گز رکھنے کی صورت میں ملزم پر عائد کی جاتی ہے اور سیکشن 35 میں ملزم کو خود کی بے گناہی ثابت کرنی ہوتی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق گرفتاری کے بعد آر یان خان کا جے جے ہسپتال میں باقاعدہ میڈیکل ٹیسٹ کروایا گیا جس کے بعد انہیں نار کو ٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے دفتر لایا گیا۔ بعد ازاں انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے آریان کو 7 اکتوبر تک این سی بی کی تحویل میں بھیج دیا۔

About admin

Check Also

مداح کی فوٹو بنواتے ہوئے اداکارہ مہوش حیات کو چھونے کی کوشش! پیچھے کھڑے نوجوان نے کیا کِیا؟

دنیا بھر کے فنکاروں کو جہاں عوامی سطح پر ایک خاص پروٹوکول حاصل ہوتا ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com