Home / کھیل / بابراعظم کے ٹیسٹ کرکٹ میں ایسے فیصلے کو دیکھ کرہنسی آتی ہے , کامران اکمل

بابراعظم کے ٹیسٹ کرکٹ میں ایسے فیصلے کو دیکھ کرہنسی آتی ہے , کامران اکمل

قومی کھلاڑی کامران اکمل کا کہنا ہے کہ بابراعظم کو چاہیے کہ وہ ٹیسٹ کی کپتانی کرے لیکن وائٹ

بال نہ کرے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے ہمارے پاس بابر کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔

باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر کامران اکمل کا ایک انٹرویوکلپ وائرل ہے جس میں انھوں نے نیوزی لینڈ کے

خلاف پہلے ٹیسٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں کپتان بابر اعظم کے اننگزڈکلیئر کرنے پر

کہا جاتا رہا کہ بابر نے اننگز ڈکلیئر کرکے کمال کردیا جس پر مجھے بہت ہنسی آرہی تھی۔

کامران اکمل نے کہا کہ مجھے بہت ہنسی آتی ہے جو لوگ میڈیا پر کہتے ہیں کہ کپتان کا بہادرانہ فیصلہ تھا، ہمیں تو پاگل نہ بنائیں ہم ان سے پاگل نہیں بننے والے، اس فیصلے کے ذریعے کپتان کا یہ بتانا کہ میں جارح مزاج ہوں یا ٹیم منجمنٹ بڑی جارح مزاج ہے ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑنا، ہمیں اپنی کرکٹ بہتر کرنی ہوگی۔
تینوں فارمیٹ میں بابر اعظم کی کپتانی پر بات کرتے ہوئے کامران اکمل کا کہنا تھا کہ بابر اعظم پاکستان کرکٹ کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے، اگر وہ بیٹنگ پر کھڑا رہے تو لگتا ہے کہ پاکستان ٹیم اچھا اسکور کرلے گی، بابر اعظم سب کا آئیڈیل ہے لیکن اس پر پریشر کم ہونا چاہیے، میرا خیال ہے اگر بابر وائٹ بال کی کپتانی نہ بھی کرے تو کوئی برائی نہیں، اس حوالے سے ہمیں بابر پر بوجھ کم کرنا چاہیے، اس سے بابر کو ہی فائدہ ہوگا-

قومی کرکٹر کا کہنا تھا میرا تجربہ ہے کہ ایک کپتان کی ذمہ داری بہت زیادہ ہوتی ہے، بابر کو چاہیے کہ وہ ٹیسٹ کی کپتانی کرے لیکن وائٹ بال نہ کرے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے ہمارے پاس بابر کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کراچی ٹیسٹ کے آخری روز پاکستان نے اپنی دوسری اننگز ڈکلیئر کردی تھی جس کے بعد نیوزی لینڈ کو باقی 15 اوورز میں 138 رنز کا ہدف ملا تھا نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے تیز کھیل کر ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم 8 ویں اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 61 کے مجموعی رنز پر کم روشنی کے باعث کھیل ختم کردیا گیا اور یوں 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوگیا تھا۔

About admin

Check Also

پاکستان کی افغانستان سے شکست پر رمیز راجہ کا ردعمل آ گیا

سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجا نے افغانستان سے شکست پر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com